16 نومبر 2013 - 20:30
شام ميں دہشتگرد گرووہوں کے خلاف فوج کا ملک گير آپريشن کاميابي کے ساتھ جاري ہے

شام کے علاقے درعا ميں فوج نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں پر حملہ کيا ہے –

ابنا: شام کے علاقے درعا ميں فوج نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں پر حملہ کيا ہے. اسي کے ساتھ لاذقيہ ميں چند سيکورٹي چوکيوں پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد لاذقيہ کے مضافات ميں فوج اور دہشتگردوں کے درميان سخت لڑائي شروع ہوئي جو آخري اطلاع ملنے تک جاري تھي –  دوسري طرف فوج نے شمال ميں حلب ، شمال مغرب ميں ادلب، شام کے مرکزي علاقے حمص، دمشق کے مضافات، اور حماہ ميں دہشتگرد گروہوں کے خلاف آپريشن جاري رکھتے ہوئے ان کے قبضے سے کئي علاقے خالي کرالئے-

فوج کے آپريشن ميں بہت سے دہشتگرد ہلاک ہوئے اور بھاري مقدار ميں اسلحہ ، گولہ بارود اور کئي فوجي گاڑياں  بطور مال غنيمت  فوج کو حاصل ہوئيں –اسي کے ساتھ شام سے موصولہ رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ فوجيوں سے مقابلے ميں مسلسل پسپائي کے بعد دہشتگرد گروہوں نے شہري تنصيبات اور بے گناہ عوام پر حملے تيز کرديئے ہيں - ايک اور رپورٹ ميں بتايا گيا ہے فوج نے  القلمون کا علاقہ  دہشتگردوں سے خالي کرانے کے لئے ايک بڑے آپريشن کي تياري مکمل کرلي ہے -القلمون کے پہاڑوں پر دہشتگردوں اور فوجيوں کے درميان لڑائي ايک ہفتہ پہلے شروع ہوچکي ہے جس ميں دہشتگردوں کو کافي نقصان پہنچا ہے -فوج کے ايک ذريعے نے بتايا ہے کہ القلمون کے اطراف ميں لڑائي ابھي ابتدائي مرحلے ميں ہے ليکن القلمون کا پورا علاقہ دہشتگردوں سے خالي کرانے کي تياري مکمل ہوچکي ہے اور کسي بھي وقت بھر پوري آپريشن کا آغاز ہوسکتا ہے -اسي کے ساتھ بعض رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ مختلف علاقوں ميں چھے سو دہشتگردوں نے ہتھيار زمين پر رکھ کے خود کو فوج کے حوالے کرديا ہے- يہ ايسي حالت ميں ہے کہ شام کي وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل کے نام ايک خط ارسال کرکے عالمي برادري سے مطالبہ کيا ہے کہ قطر، ترکي،سعودي اور شام ميں دہشتگرد گروہوں کي حمايت کرنے والے دوسرے ملکوں کے خلاف قانوني کارروائي کي جائے اور ان سے اس سلسلے ميں وضاحت طلب کي جائے کہ وہ دہشتگردي کي حمايت کيوں کررہے ہيں - اس خط ميں مطالبہ کيا گيا ہے کہ مسلح دہشتگرد شام ميں شہروں اور بےگناہ عام شہريوں کا قتل عام کررہے ہيں ، انہيں روکا جائے-خط ميں کہا گيا ہے کہ شام ميں مسلح دہشتگردوں کے وحشيانہ جرائم اور ان کي جانب سے بچوں کو تشدد کا نشانہ بنايا جانا اس بات کا متقاضي ہے کہ عالمي برادري اپنے فرائض پر عمل کرتے ہوئے دہشتگردوں کي حمايت اور پشتپناہي اور ان کي مالي و اسلحہ جاتي مدد کرنے والے ملکوں کے خلاف ضروري کارروائي کرے اور انہيں اس کام سے روکے -

.......

/169